Search Jobs by City

Click Here and View Jobs By Month

Quetta is known as the fruit basket of Pakistan
Hyderabad is known as the city of perfumes
Pakistan is located in tropic zone of South
Tirch Mir is the highest peak of Hindukush range
Height of K2 is 8611 m
Height of Nanga Parbat is 8126 m
Takht-e-Sulaiman is the height peak of Sulaiman Range
Jaccobabad is the hottest place in Pakistan
Ziarat is the coldest place in Pakistan
Pakistan comes at 34th number in world with respect to area
205,444 is the total area of Punjab province in sq km
140914 is the total area of Sindh in sq. km
347192 is total area of Balochistan in sq. km
700 km is the total length of coast line of Pakistan.
Balochistan has the longest coastline among all provinces of Pakistan
Total length of coastline of Sindh is 200 miles
Karachi is the largest seaport of Pakistan
Khojab is the longest tunnel in Pakistan
Jhelum is the origin of Lower Bari Doab canal
Chenab is the origin of Upper Bari Doat canal
4 rivers flow in Sindh
8 rivers flow in NWFP
12 rivers flow in Balochistan
River Bolan flows in Balochistan
Hub river flows in Sindh
Tarbela Dam is built on river Indus
Mangla Dem is built on river Jehlam
Area of highest rainfall is Murree
Area of highest snowfall is Skardu
Total height of Tarbela Dam is 500 ft
Total length of Terbela Dam is 6000 ft
Origin of Jinnah Baraj is Sindh and it is located near Kalabagh
Thar is the largest desert of Pakistan
Sindh Sagar is between the rivers of Indus and Jehlam
Ganji Bar is located between Ravi and Sutluj
Chaj Doab is between the rivers Chenab and Jehlam
Rachna Doab is located between Ravi and Chenab
8 Barrages are made on Indus River
Pakistan opened its first embassy in Iran.
Egypt was first to open its embassy in Pakistan. (chk)
First Governor of State Bank was Zahid Hussain.
First Lady governor Rana Liaquat Ali (Sindh)1973-1976.
First Lady federal minister Vikarun Nisa Noor (Tourism).
First State to join Pakistan was Bahawul Pur, 1954.
First Captain of cricket team Abdul Hafeez Kardar.
First Century Nazar Mohammd against India in 1954 in Lucknow.
First Woman University is located in Rawalpindi.
First PM of Azad Kashmir=Abdul Hamid Khan.
First President of AJK=Sardar Ibrahim Khan.
First chairman Joint Chiefs of Staff
Committee was General Mohd Sahrif.
First chief of Staff of Armed forces was General Tikka Khan.
First Daily Newspaper is Amroz 1947.
First Lady pilot was Shukriya Khanum.
First Museum of Pak established in Karachi in 1950.
First Bank was United Bank (7th August, 1947)
First Chief Election Commissioner of Pak: Mr. Khan F.M.Khan (25th March, 1956)
First Muslim Commander in Chief of Pak was Ayub Khan.
First Radio Station established was of Karachi.
First T.V station was setup at Lahore on Nov 26, 1964.
First lady Major General in Pak was Dr. Shahida Malik.
First private TV Channel STN launched in 1990.
First Chairman Senate was Habibullah Khan.
First constructed barrage of Pak is Sukkur Barrage.
First Secretary General of Pak was Ch Mohd Ali.
Agro museum is at Lailpur.
Badshahi mosque built in 1670 A.D.
Designataion of GG changed into President on 23rd March, 1956.
Largest Hockey stadium is National Hockey Stadium Lahore.
Largest railway tunnel is Khojak.
Smallest dam of Pak Warsak dam.
Largest fort of Pak Rani Kot.
Lahore Museum is the biggest in Pak
Largest Railway station is Lahore.
Highest Pass is Muztag Pass which connects
Gilgit to Xinkiyang.
Largest canal is Lloyd Barrage Canal or
Sukkur Barrage or Lance Down Pull built in 1936.
Shortest river is Ravi.
Smallest division is Karachi.
Largest division is Kalat.
Largest division of Sindh is Therparkar.
Habib Bank Plaza Karachi has 23 stories (345 ft)
Minar-e-Pak is 196 ft, 8 inches high.
Pakistan is 34th largest country in the world, 6th population wise.
Smallest civil award is Tamg-e-Khidmat.

پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے   پڑے، دلچسپ اور حیران 

    اســـلام آبــاد:-
1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد 

    راولـپـنـــڈی:-
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی 

    کــــراچــــی:-
تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا 

    لاھــــــــور:-
ایک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا 
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور
ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔

   حــــــیدر آبــاد:-
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔

    پـشــــاور:-
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

    کــــوئٹــــہ:-
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔


   ٹــــوبہ ٹیک سنــــگھ:-
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے.


    ســــرگــــودھـا:-
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔


    بہــــاولپــــور:-
نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور  کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔


    ملــــتان:-
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔


    فیصــــل آبــاد:-
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔


    رحیــــم یار خــــاں:-
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
صادق آباد:-
بہاول پور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب صادق خان  عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔  

    عبدالحــــکیم:-
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔ یہ قصبہ دریائے راوی کے کنارے آباد ہے.


    ســــاہیوال:-
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔

    ســــیالکوٹ:-
دوہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔ 
   
گوجــــرانوالہ:-
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

    شیــــخوپـورہ:-
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔


    ھــــــــڑپہ:-
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔


    ٹیکســــلا:-
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا.


    بہاولــــنگـر:-
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔


    مظـفــر گــــڑھ:-
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔


    مــــیانـوالـی:-
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

   ڈیرہ غــازی خــان:-
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

    جھــــنگ:-
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیالu“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

logoblog

No comments:

Post a Comment

Here Best Choises for You

Sponsor